بنگلور 15/مئی (ایس او نیوز) کرناٹکا حکومت نے بیرون ہند سے اپنے وطن لوٹنے والوں کے سرکاری کورنٹائن میں رہنے والوں کو چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے اور اُن لوگوں کو سرکاری کورنٹائن سےنکال کر ہوم کورنٹائن میں رہنے کی اجازت دی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق حاملہ خواتین ، بڑے بزرگ جن کی عمر 80 سال سے تجاوز کرچکی ہو، 10سال سے کم عمر بچے ہوں یا پھر کوئی بڑی بیماری مثلا کینسر، اسٹروک ، گردے کی شکایت وغیرہ کے مریضوں کو رپورٹ نیگیٹو آنے پر سرکاری کورنٹائن میں رہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ اپنے گھروں میں ہی کورنٹائن میں رہیں گے۔
اس سے پہلے بیرون ہند سے لوٹنے والوں کی رپورٹ پوزیٹو آنے پر انہیں کوویڈ کے خصوصی اسپتال میں شفٹ کیا جاتا تھا مگر جن کی رپورٹ نیگیٹو آتی تھی اُنہیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مقررہ ہوٹلوں یا ہوسٹلوں میں کورنٹائن کرایا جاتا تھا، مگر اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رپورٹ نیگیٹو آنے کی صورت میں حاملہ، بڑے بزرگ ، بچوں اور بیمار لوگوں کو گھر پر ہی کورنٹائن کرایا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ اب تک 570 لوگ دبئی، سنگاپور اور لندن سے واپس لوٹ کر کرناٹک پہنچ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ وندے ماترم اسپیشل تخلیہ مشن کے تحت پہلے مرحلے میں6,100 لوگوں کو واپس کرناٹکا لایا جاچکا ہے اوردبئی میں لاک ڈاون میں پھنسے مزید لوگوں کو اگلے چند دنوں میں بذریعہ فلائٹ بنگلور اور مینگلور واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تمام انٹرنیشنل مسافروں کے لئے سرکارکی طرف سے نامزد کردہ ہوٹلوں میں ذاتی خرچہ پر کورنٹائن کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور جو ہوٹل کے خرچے کو برداشت نہیں کرسکتے اُنہیں رہائشی اسکولوں یا ہوسٹلس میں مفت کھانے کی سہولت کے ساتھ کورنٹائن کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔